پاکستانی یونیورسٹیز میں ریسرچ کی حالت زار

Published by DAWN NEWS on 23 November 2014

ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں میں باقاعدہ ریسرچ کلچر موجود ہوتا ہے۔ تعلیمی شعبے میں ہونے والی ریسرچ ان ممالک کی ترقی میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتی ہے۔

پاکستان کی یونیورسٹیوں میں کلاسز میں پڑھانے پر تو کافی زور دیا جاتا ہے، لیکن اگر ریسرچ کی بات کی جائے تو پاکستان کو اس کی معاشی، سماجی، اور سائنسی پالیسیاں بنانے میں مدد کے لیے بہت ہی کم کام کیا جارہا ہے۔

میں گذشتہ سات سالوں سے اکیڈمکس اور ریسرچ سے وابستہ ہوں، اور ہمارے ریسرچرز کی جانب سے کی گئی ریسرچز کی کوالٹی نے مجھے ہمیشہ ڈسٹرب کیا ہے۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں ریسرچ کی خراب صورتحال کی کئی وجوہات ہیں، لیکن صحیح سمت میں اٹھائے گئے کچھ اقدامات سے ان میں سے کئی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

پروموشن کے لیے ریسرچ

2002 میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے یونیورسٹیوں میں اصلاحات لانے کا کام شروع کیا تھا۔ ہزاروں اسکالرز کو اعلیٰ تعلیم کے لیے باہر بھیجا گیا تھا، جس میں سے کئی اب واپس آچکے ہیں اور پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔

لیکن بھلے ہی ایچ ای سی اس بات کو قانونی بانڈ کے ذریعے یقینی بناتا ہے کہ اسکالرز ملک واپس ضرور آئیں، لیکن ایچ ای سی کی جانب سے پی ایچ ڈی کے دوران ریسرچ پبلیکیشنز کی تعداد اور کوالٹی کے متعلق کوئی معیار موجود نہیں ہے۔

کچھ ریسرچ سپروائزر اپنے ریسرچ گروپ کی انٹرنیشنل رینکنگ کی وجہ سے ریسرچ کی کوالٹی پر زور دیتے ہیں لیکن زیادہ تر کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ باہر کے ممالک میں نامور یونیورسٹیوں سے اپنی تعلیم مکمل کر رہے اسکالرز تھوڑے لیکن اچھی کوالٹی کے پیپرز پبلش کرتے ہیں، لیکن یہاں پر تو معاملہ ہی الٹ ہے۔

پاکستان کی یونیورسٹیوں میں پروموشن کے لیے پی ایچ ڈی کے ساتھ ساتھ پیپرز کی ایک مخصوص تعداد ہونی چاہیے۔ ترقی کے معاملے میں پبلیکیشن کی کوالٹی کو نظرانداز کر کے صرف اور صرف تعداد دیکھی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک ایسا شخص جس کی پبلیکیشنز کم، لیکن سینکڑوں حوالہ جات کے ساتھ ہوں، وہ پیچھے رہ جاتا ہے جب کہ نامعلوم جرنلوں اور کانفرنسوں میں پبلش ہونے والے غیرمعیاری پیپرز کی بنا پر پروفیسر کا رتبہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ اس وجہ سے اکیڈمکس اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد محنت کرنے سے کتراتے ہیں، اور ایک بار پاکستان واپس آجانے کے بعد وہ ہر طرح کی مبہم کانفرنسوں اور جرنلوں میں اپنے پیپرز شائع کرا لیتے ہیں۔

فیکلٹی کے درمیان حسد اور عدم تحفظ

یہ بات اہم ہے کہ یونیورسٹیوں میں تعلیمی ڈپارٹمنٹس کے اکثر سربراہان خود باقاعدہ طور پر ریسرچ کی سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں۔

اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہیڈز آف ڈپارٹمنٹس اپنے اپنے ڈپارٹمنٹ میں ریسرچ کا کلچر بڑھانے پر توجہ نہیں دیتے۔ ان میں سے کئی اس بات سے بھی خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ان کے جونیئر کہیں اچھی کوالٹی کا پیپر شائع کرانے میں کامیاب ہوکر ملکی یا عالمی شہرت حاصل نہ کرلیں۔

مجھے یقین ہے کہ یہ مضمون پڑھنے والوں میں سے کئی لوگ اس مسئلے سے اتفاق کریں گے۔ عدم تحفظ کا شکار ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ اپنے ماتحتوں پر کام کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں، یا بنیادی وسائل جیسے کہ پرنٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ فراہم نہ کر کے رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔

یہ سب چیزیں مل کر ہمارے اداروں میں اکیڈمکس کی پسماندہ صورتحال کا باعث بنتی ہیں۔

رابطے اور تعاون کی کمی

ریسرچ کو دوسروں تک پہنچانا، اور مستقبل کے کام کے لیے تعاون کرنا، اچھی کوالٹی کی ریسرچ کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستان میں یونیورسٹیاں اپنے ٹیچرز کی ریسرچ کو آگے پھیلانے کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتیں۔ اس کی وجوہات بھی تقریباً وہی ہیں جو اوپر دی گئیں، یعنی ناپسندیدگی، تعلقات اور نیٹ ورکنگ کی کمزوری، حسد، اور ایسے کلچر کا موجود ہونا شامل ہیں، جس میں پسمنظر میں رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے، اور جس کے خلاف جنگ کافی مشکل ہے۔

اگر ریسرچ اتنی خراب کوالٹی کی ہے کہ وہ آگے پھیلائے جانے کے قابل بھی نہیں، تو الزام کسے دیا جائے؟

فنڈنگ حاصل کرنے کا مشکل طریقہ کار

اور زیادہ تر ریسرچ اتنی خراب کوالٹی کی کیوں ہوتی ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اصلی اور حیران کن ریسرچ کے لیے فنڈنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں یونیورسٹیوں کے پاس اپنے اکیڈمکس کی تربیت کے لیے خصوصی فنڈز ہوتے ہیں، جس سے انہیں سمر اسکولز اور ورکشاپس میں بھیجا جاتا ہے۔ سیمینارز کرانا معمول ہوتا ہے، جس میں دنیا بھر سے مشہور اسکالرز کو مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ نوجوان ریسرچرز کے سامنے اپنی تحقیق پیش کرسکیں۔

ایچ ای سی کے پاس کانفرنسیں کرانے کے لیے فنڈز موجود ہیں، جبکہ کانفرنسوں میں شرکت کرنے کے لیے ریسرچرز کو ٹریول گرانٹ بھی دی جاتی ہیں، لیکن اس کا مرحلہ کافی طویل ہوتا ہے۔ ریسرچرز کو کانفرنس میں شرکت کے لیے ویزا کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے، اور فنڈنگ ملنے کے طویل مرحلے کے باعث کئی دفعہ ریسرچرز وقت پر ویزا حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اکیڈمکس اور انڈسٹری کے درمیان فاصلے

پوری دنیا میں انڈسٹری اکیڈمکس کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے تاکہ بہترین کوالٹی کی ریسرچ سے موجودہ مسائل کا حل نکالا جاسکے۔ اکیڈمکس سے انڈسٹری کی جانب معلومات کا یہ سفر ہی ترقی یافتہ معیشتوں کی ترقی کا راز ہے۔

پاکستان میں اکیڈمکس اور انڈسٹری کے درمیان یہ خلیج بہت وسیع ہے۔ نہ ہی انڈسٹری کے مسائل کے حل کے لیے ریسرچ کی جاتی ہے، اور نہ ہی یہ اتنی اچھی ہوتی ہے کہ کوئی مسئلہ حل کرسکے۔ حقیقی دنیا سے تعلق میں کمی بھی اس بات کی وجہ ہے کہ ہمارے گریجویٹس کو پروفیشنل دنیا کے لیے بےہنر اور ناکافی سمجھا جاتا ہے۔

اس سب کو درست کیسے کیا جائے؟

یونیورسٹیوں میں صحتمند اور فائدہ مند ریسرچ کا کلچر پیدا کرنے کے لیے ہمیں طویل مدتی اقدامات کرنے ہوں گے، اور اپنی یونیورسٹیوں میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا، جو ریسرچ کے لیے سازگار ہو۔

۔ سب سے پہلے تو ایچ ای سی کو اپنی پالیسی پر نظرِثانی کرتے ہوئے بھرتیوں اور ترقییوں کے لیے صرف ان پیپرز کو مدِنظر رکھنا چاہیے جو کہ کسی اچھے اور اثرانگیز کانفرنس یا جرنل میں شائع ہوئے ہوں۔

۔ سینیئرترین اکیڈمکس کو ریسرچ میں مصروف رکھنے کے لیے یونیورسٹیوں کو اس بات کو لازمی قرار دینا چاہیے کہ وہ ہر سال کم از کم ایک اچھی کوالٹی کا پیپر پہلے مصنف (first author) کے طور پر ضرور شائع کریں۔ اس سے یہ ہوگا کہ ٹینیور حاصل کرچکے پروفیسر بھی پوسٹ حاصل کرچکنے کے بعد ریسرچ کو فل اسٹاپ لگانے کے بجائے ریسرچ میں عملی طور پر حصہ لیں گے۔

۔ اسکالرز کی بڑی تعداد کی پاکستان واپسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ان نئے آنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں اور انہیں سسٹم میں جگہ فراہم کی جائے۔ معمول کی بنیاد پر ہفتہ وار میٹنگز کرائی جائیں جس میں فیکلٹی ممبران پراجیکٹس کو ڈسکس کریں۔ یہ بہتر رابطے و تعلقات، باہمی انڈراسٹینڈنگ اور ریسرچ کو ملک اور ملک سے باہر دیگر ریسرچرز تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس طرح کی کاوشوں سے زیادہ بہتر تعاون پر مبنی ریسرچ سامنے آئے گی۔

۔ ایچ ای سی کو چاہیے کہ ٹریول گرانٹس کی منظوری کے طویل مرحلے کو چھوٹا کرے، اور اگر ممکن ہو تو کڑی شرائط کو بھی تھوڑا آسان کردیا جائے۔ اسکالرز کو سیمینارز وغیرہ کے لیے باہر بھیجنے کا طریقہ کار آسان ہونا چاہیے۔

۔ انڈسٹری اور اکیڈمکس کے درمیان تعلق نہایت ضروری ہے۔ اگر پراجیکٹس میں طلبا کو شامل کیا جائے، تو انڈسٹری کے مسائل کو کم قیمت پر حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ بیچلر اور ماسٹرز کے طلبا کو ریسرچ پر مبنی چھوٹے پراجیکٹس دیے جائیں، جن میں پہلا سپروائزر یونیورسٹی سے، جبکہ دوسرا سپروائزر انڈسٹری سے ہو۔

طلبا اکثر اوقات انڈسٹری کو درپیش مسائل کا کم قیمت حل ڈھونڈ نکالتے ہیں، جو کہ کمپنیوں کے لیے پرکشش ہوگا۔ دوسری جانب یونیورسٹیاں ان کے آئیڈیاز کے بدلے انڈسٹری سے فنڈنگ اور آلات حاصل کرسکتی ہیں۔

پاکستان میں اکیڈمک ریسرچ ابھی نسبتاً نئی ہے، لیکن پھر بھی ایچ ای سی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے اسکالرز کو باہر بھیجتے ہوئے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہوگیا ہے۔

اب آگے بڑھنے، اور انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں ریسرچ پر مبنی پراجیکٹ متعارف کرانے کا وقت ہے۔ ہم ایک رات میں مکمل طور پر نیا کلچر تو تشکیل نہیں دے سکتے، لیکن کم از کم اتنا تو کرسکتے ہیں کہ انڈرگریجویٹ سطح پر ریسرچ کی بنیادی تعلیم دیں۔

Why our universities are miserable at research and how to fix it

The article was published on Daily Dawn’s website on 2 November 2014

HEC1

Universities in developed countries have an established research culture. The research output of academia greatly contributes towards the development of these countries.

While universities in Pakistan have the convention of strong classroom teaching, when it comes to research, too little is being carried out to help Pakistan shape its economic, social and scientific policies.

I have been associated with academia and research for more than seven years, and it has always disturbed me to look at the quality of publications most of our researchers produce.

There are several reasons for the sloppy state of research activity in Pakistani universities. But many of these can be resolved with a few steps in the right direction.

Research for the sake of promotion

In 2002, the Higher Education Commission (HEC) started to introduce reforms in universities. Thousands of scholars were sent abroad for higher studies and many of them have already returned and are now serving in Pakistan.

However, although HEC makes sure that scholars do come back after completing their education in foreign countries by signing a legal bond with them, the HEC has set no criteria for the number and quality of publications produced during the course of these PhDs.

Some supervisors fuss over the quality of research due to the international ranking of their research group, but most do not bother at all. Scholars pursuing their studies from reputed universities abroad publish fewer but quality papers whereas for the ones here, it is the other way round.

Universities in Pakistan require a certain number of publications along with a PhD for promotion. The quality of publications is conveniently ignored and so a person having fewer good publications with hundreds of citations is left behind while someone having lot of publications in unknown conferences and journals grabs the position of a tenured professor. This puts off academics from working hard after completing their PhDs and once back in Pakistan, they end up publishing in all sorts of shady journals/conferences.

Jealousies and insecurities amid faculty

It is important to note that most of the people heading individual teaching departments in universities are not actively involved in research themselves.

That is a major reason why these HoDs (Heads of Department) are lax in pushing their departmental colleagues on research, too. Many even feel threatened by the prospect of their younger colleagues getting a high-quality paper published and obtaining critical acclaim or national/international recognition.

I’m sure many of the readers here are more than familiar with this issue — insecure HoDs burdening their subordinates with extra workload; creating hindrances by withholding basic resources like laptops, printers etc.; being generally lazy and what not.

All these factors contribute heavily to the decrepit state of academics in our institutes.

Poor communication and collaboration

Communicating the research and collaborating for future work are two main ingredients for carrying out quality research.

In Pakistan, universities pay no attention to communicating and disseminating the research of their teachers. The reasons for this are much the same as those detailed above: indolence, poor networking and relations, jealousy and just an entrenched culture that has accepted mediocrity as its hallmark and has long been hopeless in the fight against it.

All said, if the research being done is too poor to even merit proper dissemination, who could one really blame?

Tortuous processes of acquiring funding

And why is most of the research poor? Well, a primary reason is because original, groundbreaking research needs funding.

Universities in developed countries have special funds for the training of their academics, for which they send them to summer schools and workshops. Regular seminars are conducted and renowned scholars are invited from all over the world to communicate their research to the young researchers.

HEC does have some funding for organising conferences and travel grants for researchers attending conferences, but the process is too long. Researchers have to apply for the visas before traveling to the conference venue and due to the long process of funding approval, sometimes they are unable to get the visas on time.

Gulf between academia and industry

Around the world, industry works in collaboration with academia so cutting-edge research can solve the relevant problems of the age. This transfer of knowledge from academia to industry is of primary focus in developed economies.

In Pakistan, however, the gap between academia and industry is too wide. Neither is research shaped by industry concerns, nor is it good enough to address them anyway. The detachment from the real world is also the reason our graduates are deemed ill-equipped and inadequate for the professional world, when they go out job-hunting.


How to fix the decrepit research culture


For inculcating healthy and fruitful research practices in academia, we need to start thinking long-term and create research-conducive environments in our universities.

  • To begin with, HEC must follow a policy of accepting only those publications for promotion/selection, which have been published in high-impact places.
  • To keep the senior-most academics involved in research, universities should make it mandatory for every faculty member to publish at least one good quality paper as a lead author every year. This will ensure that even the tenured professors take active part in research and do not put a full stop to it after securing their post.
  • Seeing as a significant number of scholars are now returning to Pakistan, it is the next natural step to facilitate these new inductees and help them gel into the system here. To this end, regular, weekly meetings shoud be conducted, where faculty members get together to discuss ongoing projects. This will be a step towards better communication and networking, mutual understanding and improved dissemination of knowledge to fellow academics not just across but outside of Pakistan. Ultimately, efforts like these will result in more productive research collaborations.
  • To tackle the issue of lengthy processes of travel-grant approvals, HEC must streamline processes and maybe loosen up the requirements a bit, if possible. Sending abroad/inviting home scholars for seminars should be much easier than it currently is.
  • The symbiosis of industry and academia is imperative. Industrial problems can be solved at lower costs if students are involved in the projects. One way of doing this is to assign small research-based projects to Bachelors and Masters students, with the first supervisor from academia and the second supervisor from the industry.

Students usually offer industrial solutions at a small price, which should be attractive to companies. The university, on the other hand, can complement their research by securing funds and equipment for students from the industry in exchange for their ideas.


Although academic research is new to Pakistan, it has already been a decade since HEC started this programme of sending scholars abroad for higher education.

It is now time to forge ahead and introduce research-based projects in our undergraduate and postgraduate programmes. We cannot conjure a whole new culture overnight, but let us at least start with introducing the basics of research at undergraduate level.

Quota for women in medical colleges

Published in The Frontier Post  on 2 November 2014

Medical-Colleges-in-Lahore

Every year we have an orientation day for the new entrants in the university. After they have been introduced with the faculty and informed about the university rules, they are allowed to ask questions. Few years back one student asked a question that, “Why can’t you limit the intake of girl students. They just get married after graduation whereas boys struggle to find a job with low merit” To this one of the faculty members simply replied “Who has stopped you from studying. Why don’t you work hard. Also, allow your wife to work once you get married”

On 27 September 2014 Pakistan Medical and Dental Council (PMDC) made its new admission policy public. According to this new policy, girls will not be given more than 50 percent seats even if they are on merit. The reason behind this decision of PMDC was the fact that girls don’t practice medical due to various reasons. Instead of addressing the real problem the government has conveniently decided to kill merit. Its like calling a heart surgeon to treat a bone fracture. Medical is a profession where a little negligence or incompetence can lead to someone’s death. PMDC is now openly allowing incompetent men to enter the field of medicine to avoid competent females.

Due to increasing number of female students its about time that we address the reasons behind them leaving their professions. Its never easy for a a women who has burned the midnight oil to acquire higher education to leave her profession. She has to make a choice between her family and a career, and its always the family that wins.

Countries like United Kingdom allow women to take one year leave after giving birth to a baby. This gives women enough time to spend with her newborn and breastfeed the baby for one year as recommended by the health department. Although, Pakistan is a Muslim country and Islam directs woman to breastfeed her children, women are only allowed to take 12 weeks maternity leave. Lactation break during working hours have never been given due consideration by the organizations hiring women. The woman is not even settled in her new role as a mother when she is required to go back to her work. This often results in a constant feeling of guilt of ignoring her baby and leaving him at the mercy of maids at this young age. This guilt leads to the decision of leaving professional life for good.

There are not enough day care centers where women can leave their children while they go to work. Also, there are no after school clubs where children can be occupied while mothers are at their workplace. Flexible working hours for women with small kids should also be introduced. Facilitating women in carrying out their familial duties will automatically result in women pursuing their careers. It is important to understand that given the opportunity women can lead a very successful career and a very happy family life. It needs to be understood that if you want a women to work you cannot ask her to choose either family or career. She cannot stop being a mother and a wife if she chooses a career. Working environments need to be made conducive for women. Killing merit will not solve the problem. It will instead aggravate the problems due to the incompetent lot who don’t have the merit for the jobs they are doing. This decision of PMDC makes me afraid that it will set a precedent. Tomorrow Pakistan Engineering Council might issue similar notification. Such biased decision will only result in limiting opportunities for women in every sphere of life where they already have too little choices to make.