گوسڑو ماستر تعلیم کے لیے خطرہ

Published by DAWN NEWS on 03 January 2015

آج کل سوشل میڈیا پر سندھ کے اسکولوں کے غیر حاضر اساتذہ کے خلاف ایک تحریک چل رہی ہے جسے ‘گوسڑو ماستر’ (غیر حاضر استاد) کا نام دیا گیا ہے۔ (دیکھیے یہاں، یہاں، اور یہاں

ایسے اساتذہ جنہوں نے کبھی اسکول میں قدم بھی نہیں رکھا، لیکن باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں، اب ان کے خلاف فیس بک اور ٹوئٹر پر مہم چلا کر انہیں شرم دلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک عرصے سے حکومت گھوسٹ اسکولوں اور اساتذہ کے خلاف ایکشن لینے سے کترا رہی ہے، پر اس مہم نے متاثرہ طلبا اور ان کے والدین کو آواز فراہم کی ہے۔ سندھ کے سیکریٹری تعلیم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سندھ کے چالیس فیصد اساتذہ ‘گھوسٹ’ کیٹیگری میں آتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس مہم کے آغاز کو ابھی کچھ ماہ ہی ہوئے ہیں، کہ سندھ کے رہنے والوں کو تبدیلی نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔ نومبر 2014 میں صرف ضلع خیرپور میں 77 گھوسٹ اساتذہ کو معطل کیا گیا۔

میرا تعلق سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، اور میں نے کچھ نہایت محنتی اساتذہ کو دلجمعی کےساتھ انتہائی سخت حالات میں کام کرتے دیکھا ہے۔ ایک طرف ہمارے پاس آسو بائی ہیں، ایک ایسی خاتون جو جسمانی معذوری کے باوجود معاشرے کی بہتری کے لیے تعلیم کے شعبے میں رضاکارانہ طور پر کام کر رہی ہیں، تو دوسری طرف ہمارے پاس گھوسٹ اساتذہ کی بھرمار ہے۔

اب آئیں اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ ‘گھوسٹ’ اساتذہ کیوں اسکول جانے سے کتراتے ہیں، اور کس طرح معاشرہ ڈیوٹی پوری نہ کرنے پر بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

اگر اسکول گاؤں میں ہے، تو زمیندار کا ہے

جاگیردارانہ نظام دیہی علاقوں میں تعلیم کی ترقی میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ جاگیردار یہ نہیں چاہتے کہ کوئی شخص ان سے زیادہ اہمیت یا طاقت حاصل کرلے، اور اسی لیے اپنے گاؤں میں محنتی اساتذہ کی شہرت برداشت نہیں کرپاتے۔

اس دفعہ مں نے ایک زمیندار کی جانب سے دی گئی بہت دلچسپ دلیل سنی: ‘کیونکہ زمین ان کی ہے، اس لیے حکومت کو اسکول کے لیے صرف جاگیردار کے نامزد کردہ اساتذہ بھرتی کرنے چاہیئں۔ کوئی بھی دوسرا استاد ناقابلِ قبول ہے۔

معاشرے کی بے توجہی

شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ والدین گھوسٹ اساتذہ کے خلاف شکایت کریں۔ عام طور پر لوگوں میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ چونکہ گھوسٹ اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی ان کی جیب کے بجائے حکومتی خزانے سے ہورہی ہے، اس لیے انہیں ان سے سوال کرنے یا ان کے بارے میں شکایت دائر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

اس کے علاوہ برادری نظام بھی آواز اٹھانے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی برادری کے کسی شخص کے خلاف شکایت کی تو وہ تنہا کردیا جائے گا۔

گھوسٹ اساتذہ کی معاشرے میں قبولیت

سوشل میڈیا پر گھوسٹ قرار دیے گئے زیادہ تر اساتذہ میں مشہور نام شامل ہیں جو قومی اور بین الاقوامی فورمز پر تعلیم کی اہمیت پر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں، لیکن اسکولوں میں اپنی ڈیوٹیاں پوری نہیں کرتے۔

سوسائٹی نے آہستہ آہستہ ان افراد کو ان کے اس جرم کے ساتھ قبول کرلیا ہے۔ اب ان لوگوں کو مزید شرم نہیں دلائی جاتی اور نہ ہی ان سے ان کی منافقت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ اور ایسے ماحول میں ڈیوٹی پورا نہ کرنے کا کلچر پروان چڑھتا ہے۔

دوسری دنیا میں رہ رہے بابو

محکمہ تعلیم کے ذمہ داران اور دیگر اہم سیاسی شخصیات شاید ہی کبھی اپنے ٹھنڈے آفسوں سے باہر نکل کر یہ دیکھنے کی زحمت کرتے ہیں کہ اسکولوں میں کیا ہورہا ہے۔ جو لوگ ملوث ہیں، ان کے لیے تو یہ بالکل درست ہے۔ اور کچھ ذمہ داران جو کبھی جاتے ہیں، وہ بھی اپنے سامنے موجود اس زبردست چیلنج سے نظریں چراتے نظر آتے ہیں۔

اور وہ ایسا کیوں نہ کریں؟ ان اشرافیہ کے بچے مہنگے ترین پرائیویٹ اسکولوں اور بیرونِ ملک یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، اور اس لیے وہ ایسی کسی بھی چیز کو درست کرنا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے، جس سے ان کا لینا دینا نہیں ہے۔

بھرتیوں میں اقربا پروری

تعلیم ایک بہت بڑا محکمہ ہے، اس لیے پسندیدہ افراد کے لیے جگہ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ مختلف تعلیمی سطحیں رکھنے والے لاتعداد لوگوں کو اس طرح بھرتی کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں الیکشن سے پہلے نوکری کی یقین دہانی کروائی گئی ہوتی ہے، اور وہ بھی جو باقی کسی بھی جگہ نوکری حاصل نہیں کرپاتے۔ ان سب لوگوں کو کسی نہ کسی طرح محکمہ تعلیم میں ‘ایڈجسٹ’ کرلیا جاتا ہے۔

پھر اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اساتذہ سے لے کر اعلیٰ عہدیداران تک، بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو واقعی اہلیت رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 2013 میں خواتین امیدواروں کو صنفی رعایت کے طور پر مرد امیدواروں سے 20 مارکس زیادہ دیے گئے۔

لیکن ایک عورت ہونے کے باوجود میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ مرد امیدواروں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

حالات بہتر کیسے بنائے جائیں؟

  • حکومت کو گھوسٹ اساتذہ، گھوسٹ اسکولوں، اور ناکافی سہولیات کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک شکایت مرکز بنانا چاہیے۔ محکمہ تعلیم کے افسران تک ای میل، فون، اور ڈاک کے ذریعے رسائی حاصل کرنا ممکن ہونا چاہیے۔ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ شکایت کرنے والے شخص کی شناخت مکمل طور پر راز میں رکھی جائے۔
  • یہ وقت ہے کہ معاشرہ اب مجموعی طور پر تعلیم کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ ایسا کوئی بھی استاد جو اسکول میں باقاعدگی سے نہیں آتا، اس کی نوکری بھی باقی نہیں رہنے دینی چاہیے۔ گاؤں والوں کو چاہیے کہ وہ مقامی حکام پر زور دیں کہ وہ ایسے اساتذہ کو ان کے اسکول نہ بھیجیں، جو اپنی حاضری یقینی نہیں بنا سکتے۔ یہ جان لیجیے کہ اساتذہ اپنی غفلت کے لیے صرف محکمہ تعلیم کو ہی نہیں، بلکہ بچوں اور ان کے والدین کو بھی جوابدہ ہیں۔

  • ایسا کوئی بھی شخص جس پر گھوسٹ استاد ہونا ثابت ہوجائے، اسے کسی فورم یا کسی جگہ گفتگو کے لیے نہیں بلانا چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کے لیے خودغرضی اختیار کرنا ہوگی۔ بھول جائیں کہ ایسے لوگ آپ کے بھانجے بھتیجے اور کزن ہیں۔ اگر وہ آپ کے بچے کے مستقل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، تو آپ بھی انہیں تنہا کریں۔

  • کئی گھوسٹ اساتذہ پرائیویٹ اداروں میں کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسا کوئی بھی ادارہ جو گھوسٹ اساتذہ کو اپنے پاس بھرتی کر کے ان سے کام لے، اس پر جرمانہ عائد کرے۔ محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ وہ ہر ضلع کے اساتذہ کی لسٹ بنائے، اور یہ لسٹ اپنی ویب سائٹ پر جاری کردے تاکہ پرائیویٹ ادارے کسی بھی شخص کو اپنے پاس بھرتی کرنے سے پہلے چیک کرسکیں کہ کہیں وہ شخص پہلے سے سرکاری استاد تو نہیں۔

  • صوبائی دارالحکومتوں میں بیٹھے بابوؤں کو چاہیے کہ وہ تمام ضلعوں اور تعلقوں میں موجود اپنے ماتحتوں سے اسکولوں کے بارے میں ماہانہ رپورٹ طلب کریں۔ اگر وہ ہر ماہ کچھ دنوں کے لیے فیلڈ میں جائیں اور مختلف اسکولوں کے سرپرائز وزٹ کریں تو انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ جو لوگ بھی اپنی ڈیوٹی سنجیدگی سے انجام نہیں دیتے ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

  • بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہیئں۔ میں ایک عورت ہوں اور استاد ہوں، اور مجھے خیرات میں 20 مارکس نہیں چاہیئں۔ خواتین اپنی اہلیت خود ثابت کرسکتی ہیں۔ اگر شکایت مرکز فعال ہے، تو لوگ کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں شکایت درج کراسکیں گے جو نوکری کے لیے رشوت لے یادے رہا ہے۔

اساتذہ قوم کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن اگر ہمارے اساتذہ نے یہ ذمہ داری نہیں نبھائی، تو ہماری قوم تعمیر نہیں ہوسکے گی۔

ہمارے پاس بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پوری دیانتداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف ہیں، لیکن گھوسٹ اساتذہ کو سسٹم سے باہر نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم نے جلد از جلد قدم نہیں اٹھایا، تو یہ گھوسٹ اساتذہ رول ماڈل بن جائیں گے۔ بلکہ ایک طرح سے یہ بن بھی چکے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا مہم اس رجحان کے اختتام کی جانب ایک مثبت آغاز ہے۔ اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اور اگر اور کچھ نہیں تو یہ ضرور ثابت ہوا ہے کہ سسٹم تبدیل کرنے کی چاہت موجود ہے۔

وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے، کیا حکام کو اس بات کی فکر ہے؟